بھٹکل :16؍اپریل (ایس اؤ نیوز ) پچھلے پانچ چھے دنوں سے ہونے والی شدید گرمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت سے شہر بھٹکل کی عوام کافی پریشان نظر آرہے ہیں۔ گرمی کے وقت باہر نکلنے پر جسم کو جھلسانے دینے والے حالات ہیں۔ مبارک مہینہ رمضان کا آخری عشرہ ہونے سے تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔
گرما کے موسم میں حرارت میں اضافہ ہونا عام بات ہے لیکن اس مرتبہ18-19رمضان کے بعد شدت کی گرمی سے پیدا ہونے والی حرارت نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسم گرما میں بھٹکل کی حرارت 34 ڈگری ہے لیکن حدت میں اضافہ ہونے سے عوام کو بہت زیادہ گرمی محسوس ہورہی ہے۔ مسلمانوں کےلئے تو دہری آزمائش ہے رمضان میں روزے کی حالت اور حرارت میں زیادتی ہونے سے کسی حدتک پریشانی ہورہی ہے۔ تیز دھوپ کی وجہ سے زمین بھی سخت گرم ہورہی ہے، گھر اور عمارتوں کی چھت گرم ہونے سے رات کے اوقات میں سکون کی نیند کے لئے بھی عوام ترس گئے ہیں۔
گرمی سے تھوڑی راحت پانے کےلئے عوام ٹھنڈے مشروبات کو زیادہ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔ ناریل کا پانی ، پھلوں اور گنے کے رس کی طرف لوگ زیادہ راغب ہورہے ہیں ایسے میں رمضان کی وجہ سے بھی لوگ پھلوں کی خریداری زیادہ کرتے ہیں جس کو دیکھتے ہوئےمارکیٹ میں پھلوں کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا جارہاہے۔ گرمی کی وجہ سے جب مرغی کے گوشت کا استعمال کسی حد تک کم ہونے سے چکن کی مارکیٹ میں مندا چھاگیا ہے۔
پانی کی سطح میں کمی :سخت گرمی کی وجہ سے ندی اور کنووں کا پانی کافی حد تک نیچے چلا گیا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ہونےکی اطلاعات ہیں۔ ریاست بھر میں مختلف مقامات پر بارش بھی برسنے کی خبریں ہیں لیکن بھٹکل میں ابھی تک پانی کا قطرہ بھی نہیں ٹپکا ہے۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو تعلقہ بھر میں ہر طرف پانی کی قلت محسوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیاجارہاہے اور پینے کےپانی کےلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تعلقہ میڈیکل افسر ڈاکٹر سویتا کامت نے اس سلسلےمیں مشورہ دیا ہے کہ تعلقہ میں شدت کی گرمی ہونےکی وجہ سے عام طورپر جسم میں پانی کے عنصر کمی ہونے سے کمزوری سمیت کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ ایسے موقعوں پر عوام کو چاہئے کہ وہ پانی کے عنصر والے اشیاء کا زیادہ استعمال کریں ۔ بار بار نمک اور لیمو کا پانی پیتے رہنے سے کمزوری دورہونے کی بات ڈاکٹر نےکہی ہے۔